5 مئی 2026 - 16:22
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول پوری قوت سے برقرار ہے

ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے جہاز گذارنے کے نعروں کے برعکس،  شپنگ کمپنیوں نے اس منصوبے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور زور دے کر کہا ہے کہ وہ ایران کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے عبور نہیں کر سکتیں اور نہیں کرنا چاہتیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گوکہ جبکہ امریکی صدر 'فریڈم پروجیکٹ' کے عنوان سے ایک منصوبے میں آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا، جو ایرانی افواج کی بروقت کاروائی کی وجہ سے ناکام ہؤا، میڈیا رپورٹس بھی اس منصوبے کی مکمل ناکامی کو نمایاں کرتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 'انسانی ہمدردی' پر مبنی مدد کے بہانے، اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے آبی گذرگاہ میں بھٹکتے ہوئے جہازوں کو 'ہدایت' دے گی۔ لیکن اس کے فورا بعد، ایرانی افواج کی سنجیدگی دیکھ کر، امریکی عہدیداروں نے اعلان کیا کہ ٹرمپ کے اعلان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکی افواج کے ذریعے ان جہازوں کی اسکورٹنگ کریں گی! جس کے بعد اس ٹرمپی منصوبے کی ممکنہ کامیابی کے بارے میں بھی، شکوک و شبہات میں اضافہ ہؤا۔

بعدازاں، اس آبی گذرگاہ سے گذرنے کے لئے ایک امریکی جنگی جہاز (نیوی فریگیٹ) کی مہم جوئی ایرانی بحری افواج نے انتباہی کروز اور ڈرون داغے، اور امریکی نیوی پسپائی پر مجبور ہوئی۔

گارڈین اخبار نے اب شپنگ کمپنیوں کے حوالے سے زور دیا ہے کہ ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔ ان کمپنیوں کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے 'فریڈم پروجیکٹ' کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور وہ اس منصوبے پر اعتماد نہیں کر سکتیں۔ نیوٹیلس نیویگیٹرز یونین کی سیکرٹری جنرل ساسکا مائر نے سوال اٹھایا کہ 'کیا یہ تحفظ یقینی ہے؟ بارودی سرنگوں کی صورتحال کیا ہے؟ کیا جہاز بیمہ شدہ ہیں؟ کیا یہ تجویز کافی ہے؟ یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کہ آیا یہ اچھی خبر ہے یا یہ مزید خطرہ پیدا کرتی ہے، حقیقتا یہ اقدام بہت قبل از وقت ہے۔'

ایک تیل بردار جہاز کے کپتان رامن کپور، جنہیں آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت نہیں ملی، نے واضح کیا کہ وہ ایران کی اجازت کے بغیر اس آبنائے سے نکلنے کا 'خطرہ' مول لینے کو تیار نہیں ہیں / 'بحیثیت کپتان، صورتحال کا جائزہ لینا بھی، میری ذمہ داری ہے۔ مجھے تمام عملے کی رضامندی حاصل کرنا ہوگی - کہ آیا وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایک طویل عمل ہے۔'

شپنگ انڈسٹری گروپ Bimco میں سینئر سیفٹی اور سیکیورٹی آفیسر، یاکوب (یعقوب) لارسن،  نے بھی زور دیا کہ ٹرمپ کے بیانات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نے ایران کے ذریعے گذرنے والے جہازوں کے نشانہ بنائے جانے کے امکان کے بارے میں خبردار کیا اور مزید کہا کہ ٹرمپ کے 'فریڈم پروجیکٹ' نے 'دوبارہ تصادم کا خطرہ' بڑھا دیا ہے۔

ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، اور جہازوں کو اب بھی اس ملک کی اجازت اور ہم آہنگی کے بغیر آبنائے ہرمز سے گذرنے کی اجازت نہیں ہے۔

اب تک، ٹرمپ کا منصوبہ جسے وہ 'فریڈم پروجیکٹ' کہتے ہیں، بہت سی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس نے امریکی بحری جہازوں اور جنگی جہازوں کو بھی خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ پروجیکٹ فریڈم کی جہتیں کافی وسیع ہیں اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ جہتیں عیاں ہوجائیں گی اور بعض تجزیہ کاروں نے اصفہان کے جنوب میں امریکی فوج کی بہت بڑی تاریخی شکست ـ جس کو طبس 2 کا نام دیا گیا ـ کے بعد دوسری انتہائی بڑی شکست ہے جس کو شاید بحری طبس یا طبس 3 کا نام دیا جا سکے۔

اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق، کم از کم ایک امریکی جنگی جہاز دو ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن کر تباہ ہو چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: محترمہ الہام معین

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha